بنگلورو،21؍فروری(ایس او نیوز) سابق وزیر اعلیٰ اور ریاستی اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر سدارامیا نے میسور سٹی کارپوریشن کے اقتدار پر قبضہ کے لئے کانگریس اورجے ڈی ایس کے درمیان مفاہمت کو منظوری دے دی ہے، لیکن کہا ہے کہ جے ڈی ایس پر اس بات کے لئے زور دیا جائے کہ حسب وعدہ وہ اس بار میئر کا عہدہ کانگریس کے حق میں دے دے۔
میسورومیں اس ضمن میں کانگریس قائدین کے ساتھ ایک میٹنگ کے بعد سدارامیا نے کہا کہ سکیولرز م کے مفاد میں میسور کی بلدیہ کے انتظامیہ پر قبضہ کرنے کے لئے وہ کانگریس اور جے ڈی ایس کے درمیان اتحاد کے مخالف نہیں۔انہوں نے کہا کہ شہر میسورکی ہمہ جہت ترقی کے لئے اگردونوں سیاسی پارٹیاں مل جل کر کام کریں تو اس سے انہیں کوئی اعتراض نہیں ہے۔
انہوں نے تمام کارپوریٹروں کو مشورہ دیا کہ شہر کی ترقی کے مفاد میں مل جل کر کام کریں۔ریاستی حکومت کی طرف سے مارچ کے دوران پیش کئے جانے والے بجٹ کے بارے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے سدارامیا نے کہا کہ جب ریاست کا خزانہ خالی پڑا ہوا ہے تو بجٹ سے کسی طرح کی امید رکھنا خام خیالی ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت کے پاس سرکاری ملازمین کو تنخواہ دینے کے لئے پیسہ نہیں ایسے میں وہ بجٹ میں فلاحی پروگراموں کے لئے رقم کہاں سے لائے گی۔بجٹ میں ہر سوال کا جواب دینے کے بارے میں وزیر اعلیٰ ایڈی یورپا کے اعلان پر سدارامیا نے کہا کہ جب حکومت کے پاس خرچ کرنے کے لئے فنڈ ہی نہیں تو جواب کس چیزکا دیا جائے گا۔
بی پی ایل راشن کارڈ کے بارے میں وزیر شہری رسد امیش کتی کے بیان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے سدارامیا نے کہا کہ اس سے کتی کی عوام دشمن شبیہ سامنے آچکی ہے۔ کرناٹک میں کورونا وائرس کی دوسری لہر کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ کورونا وائرس بحران کے دوران حکومت نے جو رشوت کھائی ہے وہ اب ختم ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کورونا کی پہلی لہر کے نام پر جس قدر کرپشن ہوا ہے وہ ناقابل بیان ہے۔
انہوں نے کہا کہ ریاست میں اگرواقعی کورونا وائرس کی دوسری لہر کا خطرہ ہے تو حکومت کو اسے سنجیدگی سے لینا چاہئے لیکن ایسا بالکل نہیں لگتا کہ حکومت اس کے بارے میں سنجیدہ ہے۔ریاستی بی جے پی حکومت کے کرپشن پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس حکومت کو لوٹنے کے علاوہ کوئی کام نہیں ہے۔ اس موقع پر سابق وزیر اعلیٰ کے ہمراہ سابق وزراء ضمیر احمد خان، تنویر سیٹھ اور دیگرموجود تھے۔